کراچی اور پشاور میں میڈیا پر ہونے والے حالیہ حملوں نے ایک بار پھرپاکستانی صحافتی برادری کی مشکلات کو واضح کر دیا ہے۔

کراچی میں سینئر صحافی آفتاب عالم اور ڈی ایس این جی انجینئر ارشد علی جعفری جں بحق ہو گئے جبکہ پشاور کے علاقے حیات آباد میں ہونے والے حملے میں پی ٹی وی کے رپورٹر عبد الاعظم شدید زخمی ہو گئے۔

پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے جہاں سن 2000 سے لیکر اب تک 107 صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جاں بحق ہوئے ہیں۔

جہاں ایک طرف حکومت ایسا لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہی جس سے صحافیوں کو درپیش خطرات سے نمٹا جا سکے وہیں صحافتی ادارے بھی اپنے ورکرز کو خاص طور پر اپنے فیلڈ ورکروں کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات اٹھانے میں ناکام رہے ہیں جس میں خاص طور پر پروٹیکشن کیئر جیسے کے بلٹ پروف جیسکٹس اور ہیلمٹ فراہم کرنے اور ان کے استعمال کو لازم قرار دینے اور صحافیوں کے لیے کسی قسم کی انشورنس پالیسی کا نفاذ شامل ہیں۔

صحافتی تنظیموں کے احتجاج اور سوگ سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ حکومتی اور صحافتی اداروں پر اس بات کا زور ڈالیں کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے باتوں اور سیمناروں کے بجائے عملی اقدامات کی طرف آئیں۔

Leave a Reply