Govt. pondering over new, sophisticated methods of electronic media censorship – considering amendments to PEMRA Act 2007 to legalize ‘scrambling’ of satellite TV channels.

PEMRA to work with SUPARCO, the Space and Upper Atmosphere Research Commission – in a latest development, the amendment bill has been drafted and shared with the legal experts, Dawn reported.

In a recent worrisome development, the government is reportedly preparing to put a leash on country’s electronic media by empowering PEMRA to scramble the broadcast signals of TV channels airing ‘objectionable content’.

For this, the government has discussed a possible amendment to the Pakistan Electronic Media Regulatory Authority (PEMRA) Act 2007. The amendments would empower the Authority to ‘de-link’ the signals of a specific television channel towards any satellite, which would ensure that no cable operator or television set gets the broadcast. In order to do this, PEMRA would require the help of SUPARCO, the national space agency, Dawn reported.

The proposed amendment, if it is accepted as law, will allow PEMRA to ensure that lengthy speeches by politicians and images of mob violence and gory scenes of terrorist attacks are not shown Dawn reported, quoting an unnamed government official.

See the full story here:

The proposal is part of National Action Plan framework and is an attempt to potentially curb the coverage of terrorist activities. Similar recommendations were made by the Standing Committee on Information and Broadcasting chaired by Marvi Memon in Dec 2014. However, the committee did not discuss the delinking option.

If the reports are true, and the government really is considering the scrambling option, it effectively qualifies as State censorship and as such, we express serious concerns over it. The TV channels are currently bound by the virtue of their licenses to NOT air content which potentially goes against the ideology of Pakistan and/or is likely to incite violence. The extra layer of regulation is not necessary and has the potential to be used against legitimate political expression and thus gravely endangers the citizens’ right to free media as mandated in the Constitution of Pakistan.

It’s a developing story. Please check back for updates.


پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی ریگولیشن کرنے والے ادارے، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ، پیمرا کے قانون میں ترمیم کا بل تیار ہے اور قانونی ماہرین کو بھجوایا جا چکا ہے ۔

  ڈان اخبار کی خبر کے مطابق،  حکومت، پیمرا کو پاکستان میں براڈکاسٹ ہونے والے ٹیلیویزن چینلز کے سگنلز  میں خلل ڈالنے کی صلاحیت دینا چاہتی ہے تاکہ حکومت کی نظر میں قابل اعتراض مواد کو نشر ہونے سے  روکا جا سکے۔ یہ خبر ملک میں آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت کے لئے کام کرنے والوں کے لئے انتہائی پریشان کن ہے۔

ڈان  اخبار میں شایع ہونے والی خبر کے مطابق، حکومت پاکستان نے پیمرا ایکٹ دو ہزار سات میں ترمیم کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ ان ترامیم کے بعد، پیمرا کو یہ اختیارحاصل ہوگا کہ کسی بھی چینل کے سگنلز میں خلل ڈال دیا جائے تاکہ وہ  براڈکاسٹ کے لئے کسی بھی کیبل آپریٹر کو موصول نا ہو سکیں۔ اس ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے، پیمرا کو ،  سپارکو کی مدد درکار ہو گی۔

ڈان میں کسی حکومتی افسر کا حوالہ دے کر  واضح کیا گیا ہے کہ اس ترمیم کے  منظور ہو جانے کی صورت میں، پیمرا  اس بات کو یقینی بنا سکےگا کہ سیاست دانوں کی لمبی تقریریں اور دہشت گردی کے خوفناک مناظر دکھائے نا جا سکیں۔ یہ ترمیم ، دہشت گردی کے خلاف تیار کئے جانے والے نیشنل ایکشن پلان کا ایک حصہ ہے اور اس کا  ایک مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دہشت گردی کی  کارروائیوں کی کووریج روکی جا سکے۔ دسمبر دو ہزار چودہ میں بھی، ماروی مین کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے جنگی حالات میں میڈیا کے لئے تجاویز  پیش کی تھیں، تاہم ان میں ٹی وی چینلز کے سگنل میں خلل ڈالنے کی بات نہیں کی گئی تھی۔

اگر حکومت واقعتا، پیمرا کو یہ اختیار اور ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہے، تو یہ اقدام حکومتی سنسر شپ کے مترادف ہے اور میڈیا میٹرز فار پاکستان  اس اقدام پر شدید خدشات کا اظہار کرتا ہے۔  پیمرا سے لائسنس شدہ تمام ٹی وی چینلز قانونا اس بات کے پابند ہیں کہ ایسا مواد نشر نا کریں جو نظریہ پاکستان کے خلاف ہو یا جس سے انتشار پھیلنے کا خدشہ ہو۔  ایسے میں پیمرا آرڈیننس میں ترمیم کرکے پیمرا کو اضافی اختیارات دینا  نا صرف بے مقصد ہے بلکہ اس عمل سے سیاسی بنیادوں پر سنسر شپ کا  خطرہ بڑھتا نظر آتا ہے، جو پاکستان کے آئین میں دئے جانے والے، آزادی اظہار کے حق کی خلا ورزی ہوگی۔


Asad Baig

Leave a Reply