Lingering impunity and the recent wave of targeting of journalists | پاکستان میں صحافیوں پر بڑھتے ھوے حملے اور سزا سے استسنا کا رجحان

Pakistan is considered as one of the most dangerous countries to practice journalism. In 2007 and 2014 alone, a staggering 26 journalists were killed. Shockingly there have been convictions in only 4 cases. Impunity in these cases is above 95%.

Convictions in Wali Khan Babar’s case set a new precedent. With this landmark decision, media workers expected a decline in impunity but the a fresh series of murders has claimed 5 more lives (Zafarullah Jatak, Noman Ali, Arshad Ali Jaffari, Aftab Alam and Zaman Meshed) in 2015.

Zaman was shot dead in a roadside killing. Tehreek-e-Taliban Pakistan has accepted the responsibility. Till date 14 tribal journalists have lost their lives with 100% impunity.

MMfD representative spoke to Safdar Dawar, former president of Tribal Union of Journalists about the murder:

While journalists across country have to deal with dangerous situations but media workers in Tribal Areas are exceptionally vulnerable to threats and attacks. He said there are about 200 journalists in Tribal Areas, out of which 14 have been killed thus far. Those who aren’t killed are either abducted and/or tortured. He expressed frustration over the fact that journalists are killed for not reporting statements from terrorists groups but if they do, they might get arrested. He also mentioned those who protest against the killing of media workers are also threatened. On a question about Zaman Mehsud, he said Zaman mentioned about threats he received but never reported it to journalists unions.

دنیا بھر میں صحافت ایک خطرناک پیشہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن بعض ممالک میں صحافت کو کچھ زیادہ ہی خطرات درپیش ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں کیا جاتا ہے جن میں صحافی سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ آئے روز کسی صحافی کو پاکستان میں قتل کیا جانا ایک معمول بن چکا ہے۔ سن 2014 میں پاکستان میں سب سے زیادہ 14 صحافی قتل کیے گئے جبکہ سن 2000 سے اب تک 110صحافی قتل کیے جا چکے ہیں اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ان ایک سو دس صحافیوں میں سے صرف چار کے قاتل قانون کی گرفت میں آَئے ہیں۔ جہاں پاکستان 2014 میں صحافیوں کے لیے قتل گاہ بنا رہا وہاں ایک صحافی ولی خان بابر کے قاتلوں کی گرفتاری کے باعث یہ خیال کیا گیا کہ شائد حالات کچھ بہتری کی طرف جائیں۔ 2015 کے وسط تک ملک بھر میں کسی صحافی کو اپنی جان نہ گنوانی پڑی تو گمان کیا گیا کہ شائد ولی خان بابر کے قاتلوں کی گرفتاری نے صحافیوں کو نشانہ بنانے والوں کو سخت پیغام دیا ہے۔ لیکن یہ امید بھی اس وقت دم توڑ گئی جب جون 2015 میکں پہلے ایک صحافی ظفر اللہ جتک، پھر جولائی میں ایک میڈیا ورکر نعمان علی اور پھر اگست میں اوپر تلے ارشد علی جعفری اور ایک سینئر صحافی کو آفتاب عالم کو دن دھاڑے قتل کیا گیا۔ اور دیگر بہت سے صحافیوں کی طرح ان کے قاتل بھی کچھ نامعلوم افراد کہلاے اور شائد ہمشہ نامعلوم ہی رہیں گے۔

اس خونریزی کا تازہ ترین نشانہ، قباٗلی صحافی، زمان مہسود بنے، جنہیں چار نومبر کو خیبر پختون خواہ کے علاقے ٹانک میں متعدد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ستم ظریفی یہ کہ 2 نومبر پاکستان سمیت پوری دنیا میں صحافیوں کے خلاف جرائم اور تشدد کے خاتمے کے طور پر منایا گیا اور اس کے اگلے ہی روز زمان مہسود کو قتل کر کے یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان میں قلم اور قلم والوں کی جان ہرگزامان میں نہیں ہے اور اگر تم مارے جانے والے صحافیوں کی یاد میں شمعیں جلاو گے تو ہم کچھ مزید صحافیوں کی زندگی کی شمع گل کر دیں گے۔ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے زمان مہسود گزشتہ دس سالوں سے صحافت سے وابستہ تھے جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری حالیہ فوجی آپریشن کے باعث وہ ٹانک میں رہائش پزیر تھے۔ زمان ایک مقامی اخبار امت اور ثنا نیوز ایجنسی کے ساتھ وابستہ ہونے کے علاوہ ایک ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ بھی تھے۔طالبان کے ایک گروپ نے ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ چونکہ وہ طالبان کے خلاف لکھتے تھے اس لیے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے اور مزید صحافی بھی ان کی ہٹ لسٹ پر موجود ہیں۔

اس سلسلے میں ٹرائبل یونین آف جرنلسٹ کے سابق صدر اور سینئر صحافی صفدر داوڑ سے بات کی تو انہوں نے اس واقعہ پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورے ہی ملک میں صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن قابلی علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کی مشکلات کچھ زیادہ ہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں 200 کے لگ بھگ صحافی موجود ہیں جن میں سے 14 کو قتل کیا جا چکا ہے اس لحاظ سے یہ شرح ملک کے دیگر عللاقوں سے کہیں زیادہ ہے جبکہ اغواہ اور تشدد کا نشانہ بننے والے اس کے علاوہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب حکومت کی طرف سے کلعدم تنظیوں کی کوریج پر پابندی ہیں اور دوسری جانب کلعدم تنظیمیں ان کی کوریج نہ کیے جانے پر انہیں نشانہ بنا رہی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صحافیوں پر تشدد اور قتل کے خلاف احتجاج کرنے پر بھی انہیں اور دیگر صحافیوں کو دھمکیاں ملتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ صحافیوں کے خقوق کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتے رہے ہیں اورکرتے رہیں گے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ زمان مہسود نے اپنے ایک صحافی دوست سے ذکر کیا تھا کہ انہیں کچھ دھمکیاں مل رہیں ہیں تاہم انہوں نے اپنی یونین یا گھر والوں کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا۔

اس قتل کی ذمہ داری طالبان کے دو مختلف گروہوں نے قبول کی ہے۔ ایک کا کہنا ہے کہ زمان مہسود کو کووریج نا دینے پر نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسرے گروہ کا دعوٰی ہے کہ قتل کی وجہ منفی کورریج تھی۔ ایک طرف قتل کی ذمہ داری قبول کرنےوالے دو گروہ تیار کھڑے نظر آتے ہیں، تو دوسری طرفم قاتلوں کو تختہ دار تک پہنچانے کے ذمہ دار، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت کی طرف سے صرف خاموشی سنایٗی دیتی ہے۔ لگتا یہی ہے کہ زمان مہسود کے قاتل بھی، دیگر صحافیوں کے قاتلوں کی طرح نا معلوم ہی رہیں گے۔

Leave a Reply